ناشکرا ہرن
ڈاکٹر جمیل جالبی
یہ اس زمانے کا ذکر ہے جب بندوق ایجاد نہیں ہوئی تھی اور لوگ تیرکمان سے شکار کھیلتے تھے۔ڈاکٹر جمیل جالبی
ایک دن کچھ شکاری شکار کی تلاش میں جنگل میں پھر رہے تھے کہ اچانک ان کی نظر ایک ہرن پر پڑی۔ وہ سب اس کے پیچھے ہولیے۔ شکاری ہرن کو چاروں طرف سے گھیر رہے تھے اور ہرن اپنی جان بچانے کے لیےتیزی سے بھاگ تھا۔ جب وہ بھاگتے بھاگتے تھک گیا تو یک گھنی انگور کی بیل کے اندر